18 ستمبر 2026 - 23:45
ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی دلدل میں پھنس گیا ہے، ڈاکٹر عادل باکوان + ویڈیو

فرانس 24 نیٹ ورک کے تجزیہ کار نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی دلدل میں پھنس گیا ہے اور کسی بھی قیمت پر خود کو چھڑانا چاہتا ہے؛ لیکن وہ اس کھیل کا واحد فیصلہ کرنے والا کردار نہیں بلکہ ایرانی بھی فیصلے میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || فرانس 24 نیٹ ورک کے تجزیہ کار اور یورپین الائنس فار مڈل ایسٹرن اینڈ نارتھ افریکن اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کے مدیر اعلیٰ، ڈاکٹر عادل باکوان نے کہا:ایران ایک بہت عظیم ملک ہے جس کی تہذیب بہت پرانی ہے، جس کی آبادی 90 ملین ہے اور رقبہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے مجموعی رقبے سے بھی بڑا ہے، اور اس میں ایک علاقائی طاقت کی تمام خصوصیات موجود ہیں۔ اس جنگ سے پہلے ایران پہل کرکے، کوئی اقدام نہیں کرتا تھا؛ لیکن اب وہ خود کو میدان کا فاتح سمجھتا ہے اور اس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ پر اپنا نیا نظام مسلط کرے گا۔

فی الحال ٹرمپ ـ جو ایران کی دلدل میں دھنس گیا ہے ـ ہر قیمت پر اس دلدل سے نکلنا چاہتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ فیصلہ کرنے میں تنہا نہیں ہے بلکہ ایرانی بھی اس فیصلے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

مجھے یقین ہے اور پوری طرح جانتا ہوں کہ ایران چین کی پراکسی قوت نہیں ہے اور اس طرح کا مفروضہ بالکل غلط ہے۔

ایران مشرق وسطیٰ میں ایک عظیم ملک ہے اور ماضی میں بھی ایران تھا اور اسلامی جمہوریہ کے سانچے میں، ایران ہی رہے گا؛ ایران وہ ملک ہے جو مشرق وسطیٰ میں بہت قدیم عظیم تاریخ اور تہذیب کا مالک ہے۔

ایران کا رقبہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے مجموعی رقبے سے بڑا ہے۔

اس ملک کی آبادی نو کروڑ ہے، اس میں فوجی ڈھانچے ہیں، اقتصادی صلاحیتیں ہیں اور ایک علاقائی طاقت کی تمام تر خصوصیات کا مالک ہے۔

چنانچہ میری رائے ہے کہ:

پہلی بات یہ کہ ایران کسی بھی طاقت کا پراکسی ملک نہیں ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ جہاں تک ٹرمپ کا تعلق ہے تو وہ اس میدان میں واحد فیصلہ کن کردار نہیں ہے؛ کیونکہ ایرانیوں نے بھی فیصلہ کیا ہے اور ایران پرعزم ہے کہ خطے پر نئی علاقائی ترتیب قائم کرے۔

اس سے قبل، ایرانی اسرائیل پر حملہ کرنے کے لئے پیشگی اقدام نہیں کرتے تھے؛ اور ہمیشہ اپنے دفاع کے مورچے میں کھڑا تھا۔ لیکن ایرانی اس جنگ میں انہیں یقین ہے کہ اس میدان میں فتحیاب ہوئے ہیں، اور انہیں یہ حق حاصل ہے کہ نئی ترتیب کو مشرق وسطیٰ پر قائم کریں۔

اس نئی ترتیب میں، بہت اہم معیار اور اشارے پائے جاتے ہیں:

پہلا معیار یہ ہے کہ ایرانی اپنے آپ کو حقدار سمجھتے ہیں کہ اسرائیل پر ضرب مارنے کے لئے، حفظ ما تقدم کے طور پر کاروائی کریں۔

دوسرا، انہیں حق ہے کہ اپنا علاقائی نمونہ اور نئی علاقائی ترتیب (یا علاقائی نظام) مشرق وسطیٰ پر مسلط کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha